بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

صدقہ فطر کب ادا کیا جائے؟

سوال

کیا صدقہ فطر یکم رمضان کو بھی ادا کیا جا سکتا ہے ؟کیا کسی غریب کو نقدی کے بجائے اس سے افطاری کا سامان لے کر دیا جا سکتا ہے؟ اگر کسی کے پاس نقدی نہ ہو وہ کسی دوکان سے ادھار کھاتا پر کسی غریب کو صدقہ فطر کے بدلے میں سامان لے کر دے تو کیا صدقہ فطر ادا ہو جائے گا ۔برائے کرم رہنمائی فرمائیں؟

جواب

۱۔واضح رہے کہ  صدقۂ فطر رمضان المبارک کے مہینے میں کسی بھی دن دینا جائز ہے؛ البتہ رمضان المبارک سے قبل ادا کرنا درست نہ ہوگا۔

۲۔ مذکورہ صورت میں صدقہ فطر تو ادا ہو جائے گا جب کہ وہ مستحق کو مالک بنا کردےرہا ہے لیکن بہتر یہ ہے  مستحق کو رقم دی جائے تاکہ وہ اپنی ضرورت کے مطابق چیز خرید سکے۔

فتاوی تاتارخانیة میں ہے:

"والمختار إذا دخل شهر رمضان یجوز وقبله لایجوز، وفي الظہیریة: وعلیه الفتویٰ."

(جلد۳، ص:۴۵۲، )

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144408102541
تاریخ22-03-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں