بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

گناہ گار کے ہاتھ کا کھانا کھانا

سوال

 کیا ہم کسی ایسے مسلمان کے ہاتھوں بنائی ہوئی  افطاری کھا سکتے ہے جو   صاحب مستحق ہو (روزہ رکھنے کا)، دوسرا وہ بنا کسی وجہ کے روزہ نہیں رکھتا ہو،  تیسرا وہ صحت سے بلکل صحیح ہو ، چوتھا وہ اسلام کو  صرف مانتا ہو،  پانچواں وہ بالکل نماز نہ پڑھتا ہو۔

سوال کا مقصد صرف رمضان کی افطاری کے متعلق ہے۔ اگر عام دنوں کے بارے بھی کوئی مسئلہ  ہو تو وہ بھی بتادیا جائے۔

جواب

صورت مسئولہ میں اگر کوئی شخص کھانا پکانے والا  اس سے اچھا اور نیک میسر نہ ہو تو اس کے ہاتھ کا کھانا کھانے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے، خواہ وہ رمضان ہو یا غیر رمضان ۔فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144408102540
تاریخ22-03-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں