بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیک وقت تین یا زیادہ طلاقیں دینا

سوال

کیا 3 یا 3 سے زیادہ ایک ہی وقت میں طلاق ہو جاتی ہے؟

جواب

اگرچہ تین طلاق ایک ساتھ دینا شرعاً مکروہ وممنوع ہے، تاہم اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو ایک ساتھ تین طلاقیں دے دے تو تین طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں۔ اور  تین سے زیادہ طلاقیں دینے سے بھی تین ہی طلاقیں واقع ہوتی ہیں۔

سنن ابی داؤد میں ہے:

'' عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، فِي هَذَا الْخَبَرِ، قَالَ: فَطَلَّقَهَا ثَلَاثَ تَطْلِيقَاتٍ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْفَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ مَا صُنِعَ عِنْدَ النَّبِيِّ صلّىالله عليه وسلم سُنَّةٌ''۔

(سنن ابی داؤد ، 1/324، باب فی اللعان، ط: رحمانیه)

      ترجمہ:" عامر شعبی سے روایت ہے کہ میں نے فاطمہ بنت حبیش سے کہا :مجھے اپنی طلاق کے بارے میں بتائیں ، انہوں نے مجھے بتایا کہ مجھے میرے شوہر نے تین طلاقیں دیں ، وہ یمن سے باہر تھے تو آپﷺ نے ان تین طلاقوں کو نافذ قراردیا۔"

سنن ابن ماجہ میں ہے:

"عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: قُلْتُ لِفَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ: حَدِّثِينِي عَنْ طَلَاقِكِ، قَالَتْ: «طَلَّقَنِي زَوْجِي ثَلَاثًا، وَهُوَ خَارِجٌ إِلَى الْيَمَنِ، فَأَجَازَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"۔

(سنن ابن ماجه ،كتاب الطلاق، باب من طلق ثلاثا في مجلس واحد، ج:1، ص: 652، ط: دار احياء الكتب العربية)

فتاوی شامی میں ہے:

"وذهب جمهور الصحابة والتابعين ومن بعدهم من أئمة المسلمين إلى أنه يقع ثلاث."

            (کتاب الطلاق، ص:233، ج:3، ط:سعید)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"وان کان الطلاق ثلاثا فی الحرۃ وثنتین فی الامة، لم تحل له حتی تنکح زوجا غیرہ نکاحا صحیحا، ویدخل بها، ثم یطلقها او یموت عنها."

(کتاب الطلاق،فصل فيما تحل به المطلقة وما يتصل به، ج:1، ص:473، ط:دار الفكر بيروت) 

فقط واللہ اعلم

نوٹ: مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک ملاحظہ کیجیے:

ایک مجلس کی تین طلاقیں | جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144408102534
تاریخ21-03-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں