بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جانوروں میں زکوۃ کے لیے مال تجارت ہونا شرط ہے

سوال

 اگر کسی صاحب نصاب کے پاس 30 سائمہ بکریاں ہیں جو مال تجارت نہیں ہیں۔ اور ساتھ ہی کریانہ کی دکان بھی ہے تو کیا 30 بکریوں کی مالیت کو بھی کریانہ دکان کی مالیت میں جمع کر کہ 2.5% زکوۃ دی جائے گی؟

جواب

واضح رہے کہ جانوروں میں زکوۃ  لازم ہونے کی شرط یہ ہے کہ وہ تجارت کے لیے ہوں ،اگر تجارت کے علاوہ کسی اور مقصد کے لیے رکھے ہوئے ہیں مثلاسواری کےلیے یا بار برداری کے لیے ،توا یسی صورت میں ان پر زکوۃ لازم نہیں ۔

لہذا صورت مسئولہ میں چونکہ 30 بکریوں میں تجارت کی نیت نہیں ،اسی لیے ان پر زکوۃ لازم نہیں ۔

الدر مع الرد  میں ہے:

"لو أسامها للحم فلا زكاة فيها كما لو أسامها للحمل والركوب ولو للتجارة ففيها زكاة التجارة (قوله كما لو أسامها للحمل والركوب) لأنها تصير كثياب البدن وعبيد الخدمة."

(كتاب الزكوة،باب السائمه،ج:2،ص:276،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144408102376
تاریخ20-03-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں