بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

صرف سونا ہونے کی صورت میں زکات کب واجب ہوگی؟

سوال

میری بیوی کے پاس صرف سونا ہے، وہ بھی ساڑھے سات تولہ سے کم ہے اور چاندی یا کیش یا اور کوئی مال بالکل نہیں ہے،  تو کیا زکوۃ واجب ہوگی وضاحت فرمائیں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائل کی بیوی کی ملکیت میں  اگر صرف سونا ساڑھےسات تولے سےکم  ہے، اس کے علاوہ چاندی یا کیش یا کوئی اور مال نہیں ہے، تو اس پر زکات واجب نہیں ہے۔ 

فتاوی شامی میں ہے:

"و قيمة العرض للتجارة تضم إلى الثمنين؛لأن الكل للتجارة وضعا و جعلا و يضم الذهب إلى الفضة و عكسه بجامع الثمنية قيمة."

(كتاب الزكات، باب زكات المال، ج:٢، ص:٢٠٣، ط:سعيد)

مبسوط سرخسی میں ہے:

"(قال:) والحلي عندنا نصاب للزكاة سواء كان للرجال أو للنساء مصوغا صياغة تحل أو لا تحل وإن كان له عشرة مثاقيل ذهب ومائة درهم ضم أحدهما إلى الآخر في تكميل النصاب عندنا."

(كتاب الزكات، باب زكات المال، ج:2، ص:257، ط:دار الكتب العلمية بيروت)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144408102374
تاریخ20-03-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں