بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سماحہ نام رکھنا

سوال

میری بیٹی نو سال کی ہے، میں نے اس کا نام سماحہ رکھا تھا ،لیکن اب میں اس نام کےغیر اسلامی ہونے کی وجہ سے مطمئن نہیں ، مجھے اچھا مشورہ مرحمت فرما دیں ۔

جواب

واضح رہے کہ عربی  لغت  میں   لفظ  "سَمَاحَةُ" کا  معنی  ہے:"فراخ دلی، فیاضی ، نرمی ،   عالی ظرفی، رواداری "۔

لسان  العرب  میں  ہے:

"سمح: السماح و السماحة: الجود. سمح ‌سماحة و سموحة و سماحا: جاد."

و فیه أیضًا:

"الإسماح: لغة في السماح؛ يقال: سمح و أسمح إذا جاد و أعطى عن كرم و سخاء؛ و قيل: إنما يقال في السخاء سمح، و أما أسمح فإنما يقال في المتابعة و الانقياد؛ و يقال: أسمحت نفسه إذا انقادت، و الصحيح الأول؛ و سمح لي فلان أي أعطاني؛ و سمح لي بذلك يسمح ‌سماحة."

(فصل السین، 2/ 489 ط: دار صادر بيروت)

معنی  کے  اعتبار  سے  مذکورہ  نام  رکھنے  میں  کوئی  قباحت  نہیں  ہے،   اس لیے تبدیل کرنا ضروری نہیں ہے۔ البتہ  بچوں  کے  نام رکھنے کے سلسلے میں بہتر  یہ  ہے  کہ صحابیات  کے  ناموں  میں  سے  کسی  نام  کا انتخاب کیا جائے یا اللہ  کی نیک ہستیوں کے نام پر نام رکھے جائیں یا کم از کم ایسے عربی نام رکھے جائیں جن کے معانی عمدہ ہوں۔

جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کی ویب سائٹ پر اسلامی ناموں کے سیکشن اور فتاویٰ کے ضمن میں ناموں سے متعلق کافی تفصیل موجود ہے، وہاں سے بھی آپ کو کافی راہنمائی مل سکتی ہے ۔ فقط  واللہ  اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144408102351
تاریخ20-03-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں