فروخت کرنے کے لیے گھر لیا تو اس پر زکاۃ لازم ہے
سوال
میرا رہائش کے علاوہ بھی ایک اور گھر ہے جس کو بیچنے کے لیے رکھا ہے، لیکن دو سال سے نہیں بک رہا ہے زکوٰۃ کیسے ادا کی جائے؟
جواب
صورتِ مسئولہ میں آپ کے پاس جو بیچنے کے لیے گھر ہے، اگر یہ گھر خریدتے وقت ہی اسے نفع پر بیچنے کی نیت تھی تو یہ مالِ تجارت ہے، اور اس کی زکاۃ ادا کرنا آپ پر لازم ہے، اس گھر کی موجودہ مارکیٹ مالیت نکال کر اس پر زکاۃ ادا کریں۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(أو نية التجارة) في العروض".
(جلد۲ ص:۲۶۷، ط: ایچ ایم سعید)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

