بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

آنکھ سے پس یا چیپڑ نکلنے سے وضو کا حکم

سوال

انسان کی آنکھ کے سرے پر آنسو کی نالی اگر بند ہوجائے تو آنکھ کے سرے پر پانی جمع ہو جاتا ہے جس کو مساج کے ذریعے نکالنا پڑتا ہے ۔بعض اوقات یہ پس یا چیپڑ کی صورت بھی اختیار کر لیتا ہے ۔کیا اس کو نکالنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے یا نہیں؟ 

جواب

آنکھ کے سرے پر جمع ہونے والا پانی اگر پس کی صورت اختیار کرجائے تو اسے نکالنے سے وضو ٹوٹ جائے گا اور اگر چیپڑ کی صورت اختیار کرجائے تو اسے نکالنے سے وضو نہیں ٹوٹے گا۔

البحر الرائق  میں ہے:

"وفي التبيين والقيح الخارج من الأذن أو ‌الصديد إن كان بدون الوجع لا ينقض، ومع الوجع ينقض؛ لأنه دليل الجرح روي ذلك عن الحلواني اهـ.

وفيه نظر بل الظاهر إذا كان الخارج قيحا أو صديدا ينقض سواء كان مع وجع أو بدونه؛ لأنهما لا يخرجان إلا عن علة نعم هذا التفصيل حسن فيما إذا كان الخارج ماء ليس غير وفيه أيضا، ولو كان في عينيه رمد أو عمش يسيل منهما الدموع قالوا يؤمر بالوضوء لوقت كل صلاة لاحتمال أن يكون صديدا أو قيحا اهـ

وهذا التعليل يقتضي أنه أمر استحباب، فإن الشك والاحتمال في كونه ناقضا لا يوجب الحكم بالنقض إذ اليقين لا يزول بالشك نعم إذا علم من طريق غلبة الظن بإخبار الأطباء أو بعلامات تغلب على ظن المبتلى يجب."

(كتاب الطهارة، 1/ 34، ط: دارالكتاب الإسلامي بيروت)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144408102306
تاریخ19-03-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں