بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

گھر میں تراویح پڑھانے کا حکم

سوال

 کیا مرد امام گھر میں تراویح کی نماز پڑھاسکتاہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر مردامام گھر میں تراویح کی امامت کرے اور اس کے پیچھے کچھ مرد ہوں اور گھر کی ہی کچھ عورتیں پردے میں مردوں کے صفوں کے پیچھے صف بنائیں،اور امام کی اقتدا میں ہوں، باہر سے عورتیں نہ آتی ہوں، اور مذکورہ امام عورتوں کی امامت کی نیت کرے تو اس طرح گھر میں تراویح پڑھانا درست ہے،شرعی طور پر اس میں کوئی قباحت نہیں۔

اوراگر امام تنہا ہو اور مقتدی سب عورتیں ہوں اور عورتوں میں امام کی کوئی محرم خاتون بھی موجود ہو ، امام عورتوں کی امامت کی نیت بھی  کرے  تو اس صورت میں بھی تراویح درست ہے، امام کی نامحرم خواتین پردہ کا اہتمام کرکے شریک ہوں ۔

اور اگر  امام تنہا ہو اور مقتدی سب عورتیں ہوں، اور عورتوں میں امام کی کوئی محرم خاتون یا بیوی نہ ہو  تو ایسی صورت  میں امام کے لیے عورتوں کی امامت کرنا مکروہ ہوگا؛ لہٰذا ایسی صورت میں تراویح پڑھانےسے اجتناب کیا جائے۔

بہرصورت مرد کو چاہیے کہ وہ فرض نماز مسجد میں باجماعت ادا کرکے، تراویح اور وتر کی  نماز گھر میں جماعت سے پڑھائے۔

فتاوی شامی(حاشیۃ ابن عابدین) میں ہے:

" تكره إمامة الرجل لهن في بيت ليس معهن رجل غيره ولا محرم منه) كأخته (أو زوجته أو أمته، أما إذا كان معهن واحد ممن ذكر أو أمهن في المسجد لا) يكره، بحر".

(کتاب الصلوۃ، باب الامامۃ، ج:1، ص:566، ط:ایچ ایم سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144408102213
تاریخ19-03-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں