بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

زکوٰۃ کی رقم سے راستہ کی لائٹ درست کرنا

سوال

زکات کی رقم سے راستہ کے لائٹ درست کرنا کیسا ہے؟

جواب

زکات  کی ادائیگی کے لیے زکات  کی رقم کسی مستحق کو مالک بناکر دینا شرط ہے،لہذا صورتِ  مسئولہ میں زکات  کی رقم سے راستہ کے لائٹ درست کرنے سے زکات ادا  نہیں  ہوگی۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله: نحو مسجد) كبناء القناطر والسقايات وإصلاح الطرقات وكري الأنهار والحج والجهاد وكل ما لا تمليك فيه زيلعي (قوله: ولا إلى كفن ميت) لعدم صحة التمليك منه."

(‌‌كتاب الزكاة، باب مصرف الزكاة والعشر،ج:2،ص: 344، ط: سعید)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"أما تفسيرها فهي تمليك المال من فقير مسلم غير هاشمي، ولا مولاه ‌بشرط ‌قطع المنفعة عن المملك من كل وجه لله  تعالى هذا في الشرع كذا في التبيين."

(كتاب الزكاة، الباب الأول في تفسير الزكاة وصفتها وشرائطها،  ج:1،ص: 170، ط: ماجديه)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144408102109
تاریخ17-03-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں