بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 جُمادى الأولى 1448ھ 21 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

(اللہ جی) کہنے کے حوالے سے شرعی نقطہ نظر

سوال

دین کے طالبِ علم نے جمعہ کی نماز کے بعد جہرا ً   دعا مانگتے ہوئے یہ الفاظ بولے کہ: "  اللہ جی معا         ف کردو"  تو کیا اللہ جی کہنا درست ہے یا نہیں؟

جواب

 "جی" یہ لفظ  اردو زبان میں ادب  وتعظیم، قربت ومحبت کے واسطے کسی نام کے آخر میں لگایا جاتا ہے ،اور اسی معانی کو ملحوظ رکھ کر  استعمال ہوتے ہیں، لفظ "جی " کا لغوی معانی،  حضرت، صاحب، جناب کے آتے ہیں،لہذا اللہ کے نام کے ساتھ "جی" استعمال کرنا جائز ہے، شرعاً اس میں کوئی قباحت نہیں ہے۔

فیروزاللغات میں ہے:

"جی"(ہ، حرفِ ایجاب)

(1)ہاں ۔ بلے۔۔(2)جناب۔صاحب۔  حضرت۔۔(3)درست۔ بجا۔۔(4)(کسی کے نام کے بعد لگانا)بطور تعظیم یا اظہار قربت و محبت ۔

(فیروز اللغات، ص:527، ط:فیروز سنز پرائیویٹ لمیٹیڈ)

"فرہنگ آصفیہ " میں ہے:

"جی"( تابع فعل/ حرف ایجاب)

(1)ہاں۔ بلے۔ارے۔۔(2)جناب۔صاحب۔  حضرت جیسے جی کہو، جی کہلاو۔(3)اصل میں ایک  تعظیم کا کلمہ ہے، جیسے شیخ جی وغیرہ۔۔۔۔۔

(فرہنگ آصفیہ، ج:2، ص:80،  ط:مکتبہ حسن سہیل لمیٹڈراحت مارکیٹ اردو بازارلاہور)

نور اللغات میں ہے:

"جی" (ہ مؤنث)

(1)حرف ایجاب،ہاں۔ (2)جناب۔ حضرت، صاحب، جیسے کہو جی(3)درست ہے، بجا ہے۔(4) تعظیم کا کلمہ جو اسم کے اخر میں لگایا جاتا ہے، جیسا بابو جی وغیرہ۔"

(نور اللغات، ج:1، ص:225، ط:نیلاب پرینٹرز، گوالمنڈی، راولپنڈی)

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144408102077
تاریخ17-03-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں