بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حالتِ جنابت میں بچے کو دودھ پلانا

سوال

کیا عورت ہم بستری کے بعد حالتِ جنابت میں بچے کو دودھ پلاسکتی ہے؟

جواب

بچے کو دودھ پلانے کے لیے عورت کا پاک ہونا ضروری نہیں ہے، حالتِ جنابت میں بھی عورت اپنے بچے کو دودھ پلا سکتی ہے، البتہ بہتر یہ ہے کہ غسل کرکے پاکی کی حالت میں بچے کو دودھ پلایا جائے، نیز کوشش یہ کرنی چاہیے کہ جلد از جلد غسل کر لیا جائے، حالتِ جنابت میں زیادہ دیر تک نہیں  رہنا چاہیے، اور فرض غسل میں اتنی تاخیر کرنا کہ نماز قضا ہوجائے، گناہ ہے۔

فتاوٰی شامی میں ہے:

"(وسببها) أي سبب وجوبها (ما لا يحل) فعله فرضا كان أو غيره كالصلاة ومس المصحف (إلا بها) أي بالطهارة. صاحب البحر قال بعد سرد الأقوال ونقل كلام الكمال: الظاهر أن السبب هو الإرادة في الفرض والنفل، لكن بترك إرادة النفل يسقط الوجوب ذكره الزيلعي في الظهار. وقال العلامة قاسم في نكته: الصحيح أن سبب وجوب الطهارة وجوب الصلاة أو إرادة ما لا يحل إلا بها."

(كتاب الطهارة،ج:1،ص:85، ط: سعيد)

 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144408102042
تاریخ16-03-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں