بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

د نبے کی کھال سے بنائی گئی جائے نماز پر نماز پڑھنے کا حکم

سوال

 کیا دنبے کی کھال سے بنی جائے نماز پر نماز پڑھنی چاہیے؟

جواب

 واضح رہے کہ کسی بھی پاک چیز پر نماز پڑھناجائز ہے، صورت مسئولہ میں دنبے کی کھال  کو اگر      دباغت  دی گئی ہو، یعنی نمک یا کیمیکل وغیرہ  سے کھال کو  دباغت دی گئی ہو،تو  یہ کھال پاک ہے،اور  اس کو جائے نماز کے طور پر  استعمال کرنا ،اوراس  پر نماز پڑھنا  جائز ہے۔ 

البحر الرائق  میں ہے:

" رواية ابن عباس قال قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - «أيما إهاب دبغ فقد طهر» وفي صحيح مسلم «إذا دبغ الإهاب فقد طهر» ، وهو حديث حسن صحيح وما رواه البخاري ومسلم في صحيحيهما عن ابن عباس - رضي الله عنهما."

(البحر الرائق، کتاب الطھارة، مطلب إستعمال جلد  الفیل إذا  دبغ، ج:1 ص:110  ط: دار الکتاب الإسلامي)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144408102010
تاریخ16-03-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں