بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حاملہ عورت کے لیے بیٹھ کر نماز پڑھنے کا حکم

سوال

حاملہ عورت بیٹھ کر نماز پڑھ سکتی ہے؟ حمل کی وجہ سے اٹھنے بیٹھنے میں پریشانی ہوتی ہے۔

جواب

 فرض اور وتر نماز میں قیام کرنا ( یعنی کھڑے ہوکر نماز پڑھنا) فرض ہے،البتہ اگر حمل کی وجہ سے اٹھنے بیٹھنے میں تکلیف ہوتی ہے یا حمل کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہوتا ہے، تو اس صورت میں کھڑے ہو کر نماز پڑھنا مشکل ہو تو  بیٹھ کر نماز پڑھنا جائز ہے،لہذا حاملہ عورت اگر نماز میں قیام پر قادر نہ ہو تو وہ بیٹھ کر نماز پڑھ سکتی ہے اور اگر رکوع وسجدے پر بھی قادر نہ ہو تو اس کے لیے اشارے سے نماز پڑھنا درست ہوگا۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"( و منها: القيام ) و هو فرض في صلاة الفرض والوتر، هكذا في الجوهرة النيرة و السراج الوهاج."

( الباب الرابع في صفة الصلاة، الفصل الاول في فرائض الصلاة، ج:1، ص:69،  ط: رشيدية)

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله القادر عليه) فلو عجز عنه حقيقة وهو ظاهر أو حكما كما لو حصل له به ألم شديد أو خاف زيادة المرض وكالمسائل الآتية في قوله وقد يتحتم القعود إلخ فإنه يسقط، وقد يسقط مع القدرة عليه فيما لو عجز عن السجود كما اقتصر عليه الشارح تبعا للبحر."

(باب فرائض الصلاۃ، ج:1، ص:442، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144408102008
تاریخ16-03-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں