بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سالی غیر محرم ہے مصافحہ جائز نہیں

سوال

ہمارے ہاں لوگ بیوی کی بہن ( سالی ) سے مصافحہ کرتےہیں ، اورباتین ، گپ شپ کرتےہیں، شرعی پردہ نہیں کرتےاس سے۔لوگ کہتےہیں کہ سالی سے شادی کرناحرام ہے اس کی بہن (اپنی بیوی) کی موجودگی میں ، اس لیے اس سے شرعی پردہ نہیں کرتے، بمنزلہ محرمہ سمجھتےہیں ۔" وَأَن تَجْمَعُوا بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ " اس مذکورہ آیت سے استدلال کرتےہیں ۔

جواب

واضح رہے کہ شرعامحرم وہ عورت ہے جس سے نکاح ہمیشہ کےلیے حرام ہو، جب کہ سالی سے محرمیت دائمی نہیں ہوتی بلکہ عارضی ہوتی ہے،اور جس کی حرمت عارضی ہوتی ہے، اس سے پردہ کرنا لازم ہے،لہذاسالی سے  پردہ کرنالازم ہے ،اور بلاضرورت بات چیت کرنا، دیکھنا، ملنا بیٹھنا   جائز نہیں ہے،اورمذکورہ آیت سے سالی کی محرمیت کااستدلال کرناصحیح نہیں ہے۔

مرقاة المفاتيح شرح مشكوة المصابيح ميں ہے :

"وقال الطيبي - رحمه الله تعالى: ‌المحرم ‌من ‌النساء التي يجوز له النظر إليها والمسافرة معها كل من حرم نكاحها على التأبيد بسبب مباح لحرمتها فخرجت بالتأبيد أخت الزوجة وعمتها وخالتها."

(مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح ، كتاب المناسك،5/ 1744 ط:دارالفكر)

فتاوی شامی  میں ہے:

"(ومن محرمه) هي من لا يحل له نكاحها أبدا بنسب أو سبب ولو بزنا."

(ردالمحتار علی الدرالمختار ،کتاب الحظر والاباحۃ ، فصل فی النظر والمس 6/ 367 ط: سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144408101921
تاریخ16-03-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں