بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الثانی 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عورتوں کا اپنی ٹانگوں کے بال صاف کرنا

سوال

کیا عورت اپنی ٹانگوں کے بال صاف کر سکتی ہے؟

جواب

شریعتِ مطہرہ نے عورت کے لیے اپنے شوہر کی خاطر زیب و زینت اختیار کرنے کو جائز قرار دیا ہے، لہٰذا عورت کا اپنے شوہر کو خوش کرنے کے لیے اپنی  ٹانگوں کے بال صاف کرنا جائز  ہے، البتہ اگر اس سے مقصود نامحرم مردوں یا دیگر عورتوں کے لیے زیب و زینت اختیار کرنا ہو، تو ناجائز ہے۔

الدر المختار مع رد المحتار میں ہے:

"النامصة التي تنتف الشعر من الوجه والمتنمصة التي يفعل بها ذلك.

(قوله والنامصة إلخ) ذكره في الاختيار أيضا وفي المغرب. النمص: نتف الشعر ومنه المنماص المنقاش اهـ ولعله محمول على ما إذا فعلته لتتزين للأجانب، وإلا فلو كان في وجهها شعر ينفر زوجها عنها بسببه، ففي تحريم إزالته بعد، لأن الزينة للنساء مطلوبة للتحسين، إلا أن يحمل على ما لا ضرورة إليه لما في نتفه بالمنماص من الإيذاء. وفي تبيين المحارم إزالة الشعر من الوجه حرام إلا إذا نبت للمرأة لحية أو شوارب فلا تحرم إزالته بل تستحب اهـ، وفي التتارخانية عن المضمرات: ولا بأس بأخذ الحاجبين وشعر وجهه ما لم يشبه المخنث اهـ ومثله في المجتبى تأمل."

(كتاب الحظر والإباحة، ج:6، ص:373، ط:سعيد)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144408101800
تاریخ15-03-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں