بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا بیٹا اپنی ماں سے زکات لے سکتا ہے؟

سوال

کیا بیٹا اپنی ماں سے زکات لے سکتا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ  زکات  اپنے اصول یعنی والدین ، دادا، دادی، نانا، نانی وغیرہ اور اپنے فروع یعنی بیٹا، بیٹی، پوتا، پوتی، نواسا، نواسی وغیرہ کو  دینا جائز نہیں ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں بیٹے کا اپنی ماں سے زکات لینا درست نہیں ہے۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(ولا) إلى (من بينهما ولاد).

وفي حاشيته: قوله: (وإلى من بينهما ولاد) أي بينه وبين المدفوع إليه؛ لأن منافع الأملاك بينهم متصلة فلا يتحقق التمليك على الكمال هداية والولاد بالكسر مصدر ولدت المرأة ولادة وولادا مغرب أي أصله وإن علا كأبويه وأجداده وجداته من قبلهما وفرعه وإن سفل بفتح الفاء من باب طلب والضم خطأ؛ لأنه من السفالة وهي الخساسة مغرب كأولاد الأولاد."

(كتاب الزكاة، باب مصرف الزكاة والعشر، ج: 2، ص: 346، ط: دار الفكر بيروت)

فتاویٰ عالمگیری میں ہے:

"و لايدفع إلى أصله، وإن علا، وفرعه، وإن سفل كذا في الكافي."

(کتاب الزکاۃ، ج: 1 ،ص: 188، ط: دار الفکر بیروت)

فقط واللہ أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144408101780
تاریخ14-03-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں