بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

رمضان کے ہر روزے کی نیت کرنا ضروری ہے پورے مہینے کے لیے ایک نیت کافی نہیں ہے

سوال

نیت روزے کا ایک رکن ہے،کیا پورے رمضان کے لیے ایک ہی نیت کافی ہو گی یا ہر روزے کی الگ نیت کرنا مستحب ہوگا؟

جواب

رمضان المبارک کے ہر روزے کی نیت الگ الگ کرنا ضروری ہے،پورے رمضان کے روزوں کے لیے صرف ایک  ہی نیت کافی نہیں ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(ويحتاج صوم كل يوم من رمضان إلى نية) ولو صحيحا مقيما تمييزا للعبادة عن العادة."

(كتاب الصوم،ج:2،ص:379،ط:سعيد)

"فتاوی ہندیہ" میں ہے:

"ثم عندنا لا بد من النية لكل يوم في رمضان كذا في فتاوى قاضي خان۔۔۔ووقت النية كل يوم بعد غروب الشمس، ولا يجوز قبله كذا في محيط السرخسي ولو نوى قبل أن تغيب الشمس أن يكون صائما غدا ثم نام أو أغمي عليه أو غفل حتى زالت الشمس من الغد لم يجز."

(کتاب الصوم،ج:1،ص:195،ط:دار الفکر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144408101772
تاریخ14-03-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں