بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 جُمادى الأولى 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا نابالغ بچی حج میں بال کٹائےگی؟

سوال

کیا نابالغ بچی حج میں بال کٹائےگی؟

جواب

نابالغ بچی اگر سمجھ دار ہے، یعنی: خود نیت کرسکتی ہےاور تلبیہ بھی پڑھ سکتی  ہے اور حج کے افعال ادا کرنے کی سمجھ بھی رکھتی ہے تو ایسی نابالغہ سمجھ دار بچی کا حکم بڑوں کی طرح ہے، حج کے جن افعال پر قادر ہو وہ خود ادا کرے گی،اور بال بھی کٹائے گی،البتہ اگر نابالغ بچی ناسمجھ ہے، یعنی:خود نیت نہیں کرسکتی ہے اور تلبیہ بھی نہیں پڑھ سکتی ہے اور حج کے افعال ادا کرنے کی سمجھ بھی نہیں رکھتی ہے تو اس کا ولی اسے اپنے ساتھ لے کر اس کی نیت کرکےافعال حج ادا کرےاور قربانی سے فارغ ہوکر  بچی کے بال بھی کٹوائے ۔

غنیۃ الناسک میں ہے:

"فالمميز لايصلح النيابة عنه في الإحرام و لا في أداء الأفعال إلا فيما لايقدر عليه؛ فيحرم بنفسه و يقضي المناسك كلها بنفسه و يفعل كما يفعل البالغ، أما غير المميز فلا يصح أن يحرم بنفسه؛ لأنه لا يعقل ولا يقدر التلفظ بالتلبية، و هما شرطان في الإحرام، كما مر، و كذا لا يصح طوافه لإشتراط النية له أيضاً، بل يحرم له وليه، و الأقرب أولی ... و ينبغي للولي أن يجرده قبل الإحرام و يلبسه إزارا و رداء، و إذا أحرم له ينبغي أن يجنبه من محظورات الإحرام، ولو ارتكب محظوراً لا شيء عليهما، ويقضي به المناسك كلها، و ينوي عنه حين يحمله في الطواف، و جاز النيابة عنه في كل شيء إلا في ركعتي الطواف فتسقط".

(باب الإحرام،فصل في إحرام الصبي، ص: ٨٣ ، ٨٤ ،ط: إدارة القرآن)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144408101765
تاریخ14-03-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں