بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا حالتِ نفاس میں طلاق واقع ہوجاتی ہے؟

سوال

نفاس کی حالت میں طلاق واقع ہوجاتی ہے یا نہیں؟

جواب

حالتِ نفاس میں طلاق دینے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے، لہذااگر حالت نفاس میں طلاق دی جائے تو مدتِ نفاس  گزرنے کے بعد  تین حیض بطور عدت کے گزارنا لازمی ہیں اورحالتِ نفاس میں طلاق دینا   گناہ ہے  ۔

فتاوی شامی میں ہے:

"والنفاس … کالحیض في کل شيءٍ إلا في سبعة."

(كتاب الطهارة، باب الحيض، ج:1، ص:299، ط:سعيد)

وفیہ ایضاً:

"(قوله: و النفاس کالحیض) قال فی البحر: و لما كان المنع منه الطلاق في الحیض لتطویل العدة علیها كان النفاس مثله،  كما في الجوهرة."

(كتاب الطلاق، ركن الطلاق، ج:3، ص:234، ط:سعيد)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144408101755
تاریخ14-03-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں