بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

كيا صرف طلاق کی نیت کرنے سے طلاق واقع ہوتی ہے؟

سوال

علی نامی شخص ایک یوٹیوب فلم دیکھتا ہے، جس میں فلمی اداکار جس کا نام علی ہے کہتا ہے علی اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہے ،اگر مذکورہ فلم کو علی نامی شخص اپنے موبائل میں طلاق کی نیت سے محفوظ کرے گا تو کیا علی کی بیوی پر طلاق واقع ہوگی ؟اور پھر علی مذکورہ فلم کو طلاق کی نیت سے چلائے گا تو کیا علی کی بیوی پر طلاق واقع ہوگی ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں علی نامی  شخص کا طلاق کی نیت سے ویڈیو محفوظ کرنے اور چلانے سے اس کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی،کیوں کہ طلاق کے واقع ہونے کے لیے ضروری ہے کہ کوئی ایسا لفظ خودادا کیا جائے جوصراحۃً یا کنایۃًطلاق کے معنی پر  دلالت کرے۔

ردالمحتار میں ہے:

"(قوله: و ركنه لفظ مخصوص) هو ما جعل دلالة على معنى الطلاق من صريح أو كناية فخرج الفسوخ على ما مر."

(كتاب الطلاق، ج:3، ص:230، ط:سعيد)

فقط واللہ أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144408101754
تاریخ14-03-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں