بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 جُمادى الأولى 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اگر طواف کی گنتی میں شک ہو تو کیا حکم ہے؟

سوال

 اگر آدمی کوطواف کرتے وقت شک ہوکہ سات چکر پورے ہوگئے ہیں یا کم یا زیادہ کرلیے ہیں تو کیا اس کا طواف ہوجائے گا؟ 

جواب

اگر  فرض یا واجب طواف کے دوران چکروں کی گنتی میں شک و شبہ ہوجائے تو طواف دوبارہ شروع سے کرنا چاہیے، اور اگر طوافِ سنت یاطوافِ نفل کے چکروں کی گنتی میں شک و شبہ ہوجائے تو غالب گمان پر بنا کرنا درست ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

'' لو شك في عدد الأشواط في طواف الركن أعاده، ولا يبني على غالب ظنه، بخلاف الصلاة ۔۔۔ أنه لو شك في أشواط غير الركن لا يعيده بل يبني على غلبة ظنه ؛ لأن غير الفرض على التوسعة، والظاهر أن الواجب في حكم الركن ؛ لأنه فرض عملي''.

فقط واللہ أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144408101632
تاریخ13-03-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں