بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

’’حبا‘‘ اور ’’ہبہ‘‘ نام رکھنے کا حکم

سوال

بچی کا نام (حباء) رکھنا چاہئے یا (ہبہ)؟

جواب

’’حِباء‘‘ (’’ح‘‘ کے زیر اور آخر میں ’’ہمزہ‘‘ کے ساتھ) عربی زبان میں تحفہ کو کہتے ہیں، اس لفظ کو اردو میں ’’حِبا‘‘ (بغیر ’’ہمزہ‘‘ کے) بھی لکھ سکتے ہیں، اسی طرح ’’ہبہ‘‘ بھی ’’ہدیہ / گفٹ‘‘  کو کہتے ہیں، معنی کے اعتبار سے ان دونوں ناموں میں سے کوئی بھی نام رکھا جا سکتا ہے،   البتہ  بچی کا نام صحابیات رضی اللہ عنہن کے ناموں میں سے کسی نام پر رکھنا زیادہ پسندیدہ ہے۔

تاج العروس میں ہے:

"(و) حبا (فلانا) ‌حبوا} وحبوة: (أعطاه بلا جزاء ولا من، أو عام) ؛ ومنه حديث صلاة التسبيح: (ألا أمنحك ألا {أحبوك) ، (والاسم} الحباء، ككتاب."

(باب الواو والياء، فصل الحاء مع الواو والياء، حبو، ج: 37، ص: 391، ط: دار الهداية)

لسان العرب میں ہے:

"الهبة: ‌العطية الخالية عن الأعواض والأغراض."

(ب، فصل الواو، ج: 1، ص: 803، ط: دار صادر)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144408101605
تاریخ13-03-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں