بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تبلیغ میں نکل کر گھر والوں کو خیریت دینا

سوال

کیا چالیس دن یا چار مہینے کی جماعت میں جانے کے بعد اپنے گھر والوں سے فون کے ذریعے خیریت معلوم کرنا یا اپنی خیریت بتانا جائز ہے یا ناجائز ؟برائے مہربانی میری اصلاح فرمائیے!

جواب

تبلیغ میں نکلنے کی حالت میں اپنے گھر والوں سے فون کے ذریعے خیریت معلوم کرنا یا اپنی خیریت بتانا  جائز ہے،شرعًا اس میں کوئی قباحت نہیں ، بلکہ رابطہ ممکن ہو تو خیریت معلوم کرتے رہنا چاہیے اور گھر والوں سے اتنا عرصہ دور رہنا جس سے انہیں وحشت لاحق ہو یا فتنے کا اندیشہ ہو، شرعًا  اس کی اجازت نہیں ہے۔

موسوعة الفقه الإسلامي میں ہے:

"القاعدة التاسعة: الأصل في الأشياء الإباحة.فكل ما خلق الله الأصل فيه الحل والإباحة ما لم يرد دليل يحرمه.

وكل ما صنع الإنسان من الآلات والأجهزة فالأصل فيه الحل والإباحة ما لم يرد فيه دليل يحرمه.

فالأصل الإباحة في كل شيء، والتحريم مستثنى."

(القاعدة التاسعة، ج:2، ص:293، ط: بيت الافكار الدولية)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144408101544
تاریخ13-03-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں