بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

26 ربیع الثانی 1448ھ 09 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مرد کااپنی ساس کے ساتھ زناکرنے کی وجہ سے نکاح کا حکم

سوال

اگر کوئی شخص اپنی ساس کے ساتھ زناکرے تو کیا اس کا نکاح برقرار رہے گا یا نہیں؟

جواب

اگر کوئی مرد اپنی ساس کے ساتھ زنا کرلے تو حرمت ِمصاہرت  ثابت ہونے کی وجہ سےبیوی شوہر پر حرام ہوجائے گی،اور بیوی سے تعلق قائم کرنا حرام ہوجائے گا،اور شوہر پر لازم ہوگا کہ اپنی بیوی کو طلاق دے کر یاچھوڑدیا کہہ کر الگ کردے،تاکہ وہ عدت گزار کرکسی اور جگہ نکاح کرسکے۔

"ردالمحتار"میں ہے:

"(و) حرم أيضاً بالصهرية (أصل مزنيته) أراد بالزنا في الوطء الحرام (و) أصل ممسوسته بشهوة) ولو لشعر على الرأس بحائل لايمنع الحرارة (وأصل ماسته وناظرة إلى ذكره والمنظور إلى فرجها) المدور (الداخل) ولو نظره من زجاج أو ماء هي فيه (وفروعهن)".

(كتاب النكاح، ج:3، ص:32، ط:سعيد)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144408101528
تاریخ12-03-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں