بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

روزے کے فدیہ کا مقدار

سوال

 اس سال 2023میں روزے کا فدیہ کتنا ہوگا ؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کوئی شخص بیمارہے لیکن وہ آئندہ روزے رکھنے پر قدرت رکھتاہے، اگرچہ وفقہ وقفہ سے کیوں نہ ہو، تو اس کے ذمہ قضاء روزے رکھنا ہی ضروری ہے، فدیہ اداکرنے سے ذمہ ختم نہیں ہوگا، لیکن  اگر اس کے  ذمہ قضا روزے باقی ہوں اور اس کا انتقال ہو جائے، یا وہ اس قدر بیمار ہو جائے کہ  اس کے صحت یاب ہونے کی امید نہ رہے یا شدید بڑھاپا آجائے،تو ایسے حد درجہ عمر رسیدہ شخص کی طرف سے اس کے قضاء روزوں کا فدیہ ادا کیا جائے گا،جس کی مقدارہر روزے کے بدلے پونے دوکلو گندم یا اس کی قیمت ہے۔

سال 2023ء میں کراچی اور اس کے مضافات کے لیے صدقہ فطر/ فدیہ کی مقدار جاننے کے لیے درج ذیل لنک ملاحظہ کیجیے:

صدقہ فطر کی مقدار

الجوہرۃ النیرۃ میں ہے:

"(قوله: ‌و الشيخ ‌الفاني الذي لا يقدر على الصوم يفطر ويطعم لكل يوم مسكينا نصف صاع من بر أو صاعا من تمر أو صاعا من شعير كما يطعم في الكفارات) الفاني الذي قرب إلى الفناء أو فنيت قوته وكذا العجوز مثله فإن قلت ما الحاجة إلى قوله كما يطعم في الكفارات وقد ذكر قدر الإطعام قلت يفيدان الإباحة بالتغذية والتعشية والقيمة في ذلك جائز."

(کتاب الصوم،ج:1،ص:143،ط:المطبعۃ الخیریۃ)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144408101518
تاریخ12-03-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں