بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا عورت کا مسجد میں جاکر تراویح پڑھنا صحیح ہے؟

سوال

کیا عورت کا مسجد میں جاکر تراویح پڑھنا صحیح ہے؟

جواب

خواتین کاجماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کے لیے مسجد  جانا مکروہ ہے، چاہے فرض نماز ہو یا تراویح،لہذا خواتین  اپنی تراویح کی نماز گھرہی  میں ادا کریں، یہی  ان کے لیے زیادہ باعثِ اجر وثواب ہے۔

"فتاویٰ شامی " میں ہے:

"(و) يكره تحريما (جماعة النساء) ولو التراويح في غير صلاة جنازة (لأنها لم تشرع مكررة) ، فلو انفردن تفوتهن بفراغ إحداهن.

(قوله ويكره تحريما) صرح به في الفتح والبحر (قوله ولو في التراويح) أفاد أن الكراهة في كل ما تشرع فيه جماعة الرجال فرضا أو نفلا ".

(کتاب الصلوۃ، باب الإمامة، ج:1، ص:565، ط:سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144408101507
تاریخ12-03-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں