بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قرض خواه كا پاكستانی روپے دے كر سعودی ريال مانگنے كا حكم

سوال

ایک شخص پاکستان سے محنت مزدوری  کے لیے سعودی عرب جارہا تھا، اس سلسلے میں اُسے جانے  کے لیے یہاں پاکستان میں  مخصوص روپے جمع کروانےتھے، اس نے اپنےکسی دوست سے ایک لاکھ پاکستانی روپے  بطور قرض مانگےمیرےدوست نے وہ رقم بھیج دی ،رقم بھیجتے وقت میرے اور دوست کے درمیان یہ معاہدہ طے نہیں پایا تھا  کہ مذکورہ رقم میں سعودی ریال کے حساب سے ادا کروں گا ،اب قرضہ دینے والا مجھ سے وہاں کے حساب سے رقم واپس لینے کا مطالبہ کرتاہے،تو سوال یہ ہے کہ کیا قرض خواہ کا مجھ سے یہ مطالبہ  کرنا جائز ہے؟

جواب

  صورت ِ مسئولہ میں اگر دوست(قرض خواہ) نے ایک لاکھ روپے پاکستانی کرنسی میں بھیجے ہیں تو اس کے لیے سعودی ریال میں رقم کی واپسی کا مطالبہ درست نہیں ،اوراگر دوست نے ایک لاکھ روپے ریال کی صورت میں دیے ہیں تواس کے سعودی ریال میں رقم کی واپسی کا مطالبہ درست ہے، ایسی صورت میں جتنے ریال اس نے دیے تھے وہی دوست کو  واپس کرنے پڑیں گے۔

درر الحكام شرح غرر الأحكام میں ہے:

"أن الديون تقضى بأمثالها."

(الكتاب الرابع عشر الدعوى، (المادة 1613) الدعوى هي طلب أحد حقه من آخر في حضور القاضي: 2 /261،ط: دار إحياء الكتب العربية)

فتاوی  شامی میں ہے:

"فإن الديون تقضى بأمثالها فيثبت للمديون بذمة الدائن مثل ما للدائن بذمته فيلتقيان قصاصًا."

(كتاب الرهن، ‌‌فصل في مسائل متفرقة: 6/ 525، ط: سعید) 

فتاوى هندیہ میں ہے:

"المديون إذا قضى الدين أجود مما عليه لا يجبر رب الدين على القبول كما لو دفع إليه أنقص مما عليه، وإن قبل جاز كما لو أعطاه خلاف الجنس وهو الصحيح."

(کتاب البیوع، الباب التاسع عشر في القرض والاستقراض والاستصناع: 3 / 204، ط: رشیدیة)

فقط و اللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144408101481
تاریخ12-03-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں