بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ربیع الثانی 1448ھ 07 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بچیوں کا غیر شرعی لباس پہننا

سوال

کیا بچی کو غیر شرعی لباس پہننے کی اجازت دینا ٹھیک ہے ، میری بہن کی عمر11 سال ہے اور میں اسے غیر شرعی لباس (جیسے ٹائٹ ٹراؤزر، پینٹ وغیرہ) پہننے سے منع کرتا ہوں،  جب کہ میرے گھر والے کہتے ہیں کہ اس سے بچی کے دل میں احساس کمتری پیدا ہو جاتی ہے اور بڑی ہونے کہ بعد وہ اس قسم کے لباس ضرور پہنے گی، براۓ مہربانی رہ نمائی فرمائیں۔

جواب

واضح رہے کہ لباس  کا کم ازکم درجہ یہ ہے کہ وہ ( لباس) ساتر ہو، یعنی جس حصے کا چھپانا واجب ہے وہ کھلا نہ رہے،لہٰذا    اتنا چست اور تنگ  لباس پہنناکہ اس سے مستورہ اعضاء کی بناوٹ اور حجم ظاہر  ہو،    ناجائز ہے اور اس حالت میں دوسروں کا اسے دیکھنابھی ممنوع ہے، لہذا صورت مسئولہ میں  سائل کو چاہیے کہ حکمت کے ساتھ اپنی  بہن کو  اس طرح کے لباس پہننے سے روکے اور گھر والوں کو بھی اللہ کے اس حکم کی  طرف متوجہ کرے  ۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله لا يصف ما تحته) بأن لا يرى منه لون البشرة احترازا عن الرقيق ونحو الزجاج (قوله ولا يضر التصاقه) أي بالألية مثلا، وقوله وتشكله من عطف المسبب على السبب. وعبارة شرح المنية: أما لو كان غليظا لا يرى منه لون البشرة إلا أنه التصق بالعضو وتشكل بشكله فصار شكل العضو مرئيا فينبغي أن لا يمنع جواز الصلاة لحصول الستر. اهـ."

(كتاب الصلاة، باب شروط الصلاة، مطلب في ستر العورة،ج:1، ص:410۔ط:سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144408101461
تاریخ12-03-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں