بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دو خطبوں کے درمیان بیٹھنے کی مقدار اور ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا

سوال

 دوخطبوں کے درمیان  وقفہ کتناہوناچا ہیے اور اس میں ہاتھ اٹھاکردعاکرناکیساہے؟

جواب

دو خطبوں کے درمیان تین آیات کے بقدر بیٹھنا چاہیے،اور  دو خطبوں کے درمیان ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنا   جائز  نہیں، لہذا بغیر ہاتھ اٹھائے دل دل میں دعا کی جائے۔

صحیح  بخاری  میں ہے:

عن عبد الله قال: کان النبي صلی الله علیه وسلم یخطب خطبتین، یقعد بینهما.

( كتاب الجمعة، باب القعدة بین الخطبتین یوم الجمعة، ج:1، ص:127، ط: قدیمي)

فتاوی شامی میں  ہے :

(ويسن خطبتان) خفيفتان، وتكره زيادتهما على قدر سورة من طوال المفصل (بجلسة بينهما) بقدر ثلاث آيات على المذهب، وتاركها مسيء على الأصح، كتركه قراءة قدر ثلاث آيات، ويجهر بالثانية لا كالأولى.

(كتاب الصلاة، باب الجمعة، ج: 2، ص: 148، ط: دارالفكر)

فتاوی شامی میں ہے:

"(إذا خرج الإمام) من الحجرة إن كان وإلا فقيامه للصعود شرح المجمع (فلا صلاة ولا كلام إلى تمامها)(قوله: ولا كلام)وقال البقالي في مختصره وإذا شرع في الدعاء لا يجوز للقوم رفع اليدين ولا تأمين باللسان جهرا فإن فعلوا ذلك أثموا وقيل أساءوا ولا إثم عليهم والصحيح هو الأول وعليه الفتوى"

(كتاب الصلاة، باب الجمعة، ج:2، ص:158، ط: دار الفكر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144408101446
تاریخ12-03-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں