بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قیمت کی ادائیگی میں تاخیر کی وجہ سے ،خریدار سے بیچے ہوئے گھر کےکرایہ کامطالبہ کرنا

سوال

 ایک شخص نے مکان خریدا اسی لاکھ میں ،اور اس رقم میں سے پانچ لاکھ ادا کر کے باقی رقم کے ادا کرنے کیلے چارمہینوں کی مہلت مانگی،تومالک مکان نے گھر حوالہ کردیا،اور کہا کہ چارمہینوں تک جب تم میرے مکان میں رہو گے، تو اس کا کرایہ دینا ہو گا، تو اس کایہ کرایہ لینا سود شمار ہو گا کہ نہیں؟ 

جواب

واضح رہے کہ صورتِ مسئولہ میں جب  بیچنےوالے اورخریدار کے درمیان اسی لاکھ میں سوداہوچکا،اورخریدارنے گھر پرقبضہ بھی کرلیا،تو خریداراس گھرکامالک بن گیا،اوربیچنے والااگرنقد سوداہواہو تو نقد،اوراگر ادھارسوداہواہوتومدت کے آنے پرپیسوں کاحق داربن گیا؛ لہذااب پیسوں کی ادائیگی میں تاخیرکی وجہ سے ،بیچنے والے کوخریدارسے گھرکاکرایہ لینا ہر گز جائزنہیں ۔

تبیین الحقائق میں ہے:

"(ويلزم بإيجاب وقبول)(قوله في المتن ويلزم) أي ينعقد البيع انعقادا لازما. اهـ. عيني."

[كتاب البيوع،3/4، ط:المطبعة الكبري الأميرية]

فتاوی شامی میں ہے:

"وأما الرابع، وهو شرائط اللزوم بعد الانعقاد والنفاذ فخلوه من الخيارات الأربعة المشهورة وباقي الخيارات الآتية في أول باب خيار الشرط."

[كتاب البيوع،مطلب شرائط البيع،505/4، ط:سعيد]

الاشباہ میں ہے:

"الديون ‌تقضى بأمثالها."

[كتاب الوكالة، 214ط:دارالكتب العلمية]

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144408101264
تاریخ10-03-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں