بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عصر کی نماز کی قضا کا حکم

سوال

 عصر کی نماز کی قضاء مغرب کے ساتھ کیسے ادا ہوگی؟

جواب

صورتِ مسئولہ جو شخص صاحبِ ترتیب ہو یعنی اس کی قضا نمازوں کی تعداد پانچ سے زیادہ تک نہ پہنچی ہو تو اس کے لیے تو عصر کی قضا نماز مغرب سے پہلے پڑھنا لازم ہے، چاہے مغرب کی جماعت چھوٹ جائے، لیکن جو شخص صاحبِ ترتیب نہ ہو اس کے لیے حکم یہ ہے کہ وہ پہلے مغرب کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھ لے پھر عصر کی قضا نماز پڑھ لے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"الترتيب بين الفائتة والوقتية وبين الفوائت مستحق، كذا في الكافي حتى لا يجوز أداء الوقتية قبل قضاء الفائتة."

(كتاب الصلاة،الباب الحادي عشر في قضاء الفوئت،ج:1،ص:121،ط:رشيديه)

وفیہ ایضاً:

"ويسقط الترتيب عند كثرة الفوائت وهو الصحيح، هكذا في محيط السرخسي."

(كتاب الصلاة،الباب الحادي عشر في قضاء الفوائت،ج:1،ص:123،ط:رشيديه)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144408101196
تاریخ09-03-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں