بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سامانِ تجارت کی زکوۃ قیمتِ فروخت کے حساب سے ضروری ہے

سوال

میری ایک الیکٹرونک دکان ہے، اب میں زکوة نکالنا چاہتا ہوں، کیا میں ہول سیل ریٹ سے زکوة نکالنے کا پابند ہوں گا یا جس ریٹ پر میں فروخت کرتا ہوں اس حساب سے زکوة نکالنے کا پابند ہوں گا؟

جواب

زکوۃ کی ادائیگی میں قیمتِ خرید کا  اعتبار نہیں ہے بلکہ قیمت فروخت کا اعتبار ہوتا ہے لہذا  صورتِ مسئولہ میں سائل کے ذمہ اپنی دکان میں موجود مال کی زکوۃ قیمتِ فروخت سے نکالنا ضروری ہے، یعنی دکان میں موجود سامان آگے جتنے کا بکے گا اسی حساب سے اس کی زکوۃ ادا کی جائے گی۔

فتاوی شامی میں ہے:

"وتعتبر القيمة يوم الوجوب، وقالا يوم الأداء. وفي السوائم يوم الأداء إجماعا، وهو الأصح، ويقوم في البلد الذي المال فيه ولو في مفازة ففي أقرب الأمصار إليه فتح."

(کتاب الزکوۃ، باب زکوۃ الغنم، ج:2، ص:286، ط:سعید)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144408101155
تاریخ09-03-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں