بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تراویح کی نماز میں سجدہ سہو کرنا

سوال

کیا تراویح کی نماز میں سجدہ سہو کرناچاہئے یانہیں؟

جواب

صورت مسئولہ میں تراویح کی نماز میں بھول سے نماز کے واجبات میں سے کوئی واجب رہ جائے یا کسی واجب کی ادائیگی میں تاخیر ہوگئی ہو یااسی طرح سجدہ سہو کے اسباب اور موجبات میں سے کوئی سبب پایا جائے تو سجدہ سہو کرنا واجب ہوگا،  اگر کوئی واجب ترک  نہ ہو تو بلا ضرورت سجدہ سہو نہ کرے۔

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"وفي الولوالجية الأصل في هذا أن المتروك ثلاثة أنواع فرض وسنة وواجب ففي الأول أمكنه التدارك بالقضاء يقضي وإلا فسدت صلاته وفي الثاني لا تفسد؛ لأن قيامها بأركانها وقد وجدت ولا يجبر بسجدتي السهو وفي الثالث إن ترك ساهيا يجبر بسجدتي السهو وإن ترك عامدا لا، كذا التتارخانية. وظاهر كلام الجم الغفير أنه لا يجب السجود في العمد وإنما تجب الإعادة جبرا لنقصانه، كذا في البحر الرائق."

(كتاب الصلاة، الباب الثاني عشر في سجود السهو: 1/ 126، ط: ماجديه)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144408101062
تاریخ09-03-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں