بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ساڑھے چھ تولہ سونا اور نقدی پر زکات کا حکم

سوال

ایک آدمی کے پاس ساڑھے چھ تولہ  سوناہے اور نقد رقم بھی ہے کیا اس پر زکوۃ واجب ہے ؟

جواب

صورت ِ مسئولہ میں   اگر سائل پر قرض نہیں ہے تو  ساڑھے چھ تولہ سونا اور  بنیادی ضرورت سے زائد کچھ نقد رقم موجود  ہونے کی وجہ سے زکات واجب ہے ،اور زکات کی مقدار سالانہ ڈھائی فیصد ہے ۔

حديث میں ہے :

"عن علي رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم، ببعض أول الحديث قال: "فإذا كانت لك مئتا درهم، وحال عليها الحول، ففيها خمسة دراهم، وليس عليك شيء - يعني في الذهب - حتى يكون لك عشرون دينارا، فإذا كان لك عشرون دينارا، وحال عليها الحول، ففيها نصف دينار، فما زاد، فبحساب ذلك."

(سنن ابی داود،کتاب الزکاۃ،باب زکاۃ السائمہ،ج:۳،ص:۲۴،دارالرسالۃ العالمیۃ)

در مختار وحاشیۃ ابن عابدین میں ہے :

"(و قيمة العرض) للتجارة (تضم إلى الثمنين) لأن الكل للتجارة وضعا وجعلا (و) يضم (الذهب إلى الفضة) و عكسه بجامع الثمنية (قيمة)."

(کتاب الزکاۃ،باب زکاۃ المال،ج:۲،ص:۳۰۳،سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144408100965
تاریخ08-03-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں