بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا ظہر کی چار سنتوں میں سورت ملانا ضروری ہے؟

سوال

ظہر کی چار رکعت سنتوں میں  کیا سب رکعتوں میں سورۃ ملانی چاہیے ؟

جواب

ظہر  کی چار رکعات سنتِ مؤکدہ کی چاروں رکعات میں سورہ فاتحہ کے بعد کوئی دوسری سورت پڑھنا یا تین چھوٹی یا ایک بڑی آیت پڑھنا واجب ہے، اسی طرح جمعہ کی نماز سے پہلے کی چار رکعات سنت مؤکدہ اور جمعہ کی نماز کے بعد کی چار رکعات سنت مؤکدہ میں بھی قرأت کا یہی حکم ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(وضم) أقصر (سورة) كالكوثر أو ما قام مقامها، هو ثلاث آيات قصار، نحو {ثم نظر} [المدثر: 21] {ثم عبس وبسر} [المدثر: 22] {ثم أدبر واستكبر} [المدثر: 23] وكذا لو كانت الآية أو الآيتان تعدل ثلاثا قصارا ذكره الحلبي (في الأوليين من الفرض) وهل يكره في الأخريين؟ المختار لا (و) في (جميع) ركعات (النفل) لأن كل شفع منه صلاة (و) كل (الوتر) احتياطًا".

(كتاب الصلوة،1 / 458،ط:سعيد)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144408100896
تاریخ07-03-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں