بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دورانِ نماز پیشاب کا قطرہ نکل جائے تو نماز کا حکم

سوال

اگر فرض نماز جماعت کے ساتھ ادا کر رہے ہوں اور دورانِ نماز پیشاب کا قطرہ نکل جائے تو کیا نماز چھوڑ دینی چاہیے؟ وضاحت کر دیں۔

جواب

پیشاب کا قطرہ نکل جائے چاہے دورانِ نماز ہو یا خارجِ نماز، بہر صورت  وضو ٹوٹ جاتا ہے، لہذا اگر دورانِ نماز پیشاب کا قطرہ نکل جائے تو نماز چھوڑ  کر وضو کرے اور پھر نماز پڑھے۔ 

الدر المختار میں ہے:

"(وينقضه) خروج منه كل خارج (نجس) بالفتح ويكسر (منه) أي من المتوضئ الحي معتادا أو لا، من السبيلين أو لا (إلى ما يطهر) بالبناء للمفعول: أي يلحقه حكم التطهير."

(الدر المختار ، 134/1، سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144408100822
تاریخ06-03-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں