بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بلوغت کے بعد عقیقہ کرنا کیساہے ؟

سوال

بچے کی عمر 20 سال ہونے کے بعد عقیقہ کرنا کیسا عمل ہے؟

جواب

عقیقہ کا مستحب وقت یہ ہے کہ پیدائش کے ساتویں دن عقیقہ کرے، اگر ساتویں دن عقیقہ نہ کرسکے تو چودہویں (14)  دن، ورنہ اکیسویں (۲۱) دن کرے،  اس کے بعد عقیقہ کرنا مباح ہے، اگر کرلے تو ادا ہوجاتا ہے،  تاہم جب بھی عقیقہ کرے بہتر یہ ہے کہ پیدائش کے دن  کے حساب سے ساتویں دن کرے، لہذااگر بچپن میں عقیقہ نہ ہوا تو بڑی عمر میں بھی عقیقہ کرنے سے عقیقہ ادا ہوجائے گا، اگرچہ مستحب وقت کی فضیلت حاصل نہیں ہوگی۔ 

مصنف ابن أبي شیبة  میں ہے :

"عن محمد [ابن سیرین] قال : ’’ لو أعلم أنه لم یعقّ عني لعققتُ عن نفسي ‘‘.

 (12/319 ، حدیث :24718، کتاب العقیقة، ط : المجلس العلمي أفریقا)

إعلاء السنن میں ہے :

"عن الحسن البصري : ’’ إذا لم یعق عنك فعقّ عن نفسك، وإن کنت رجلاً ‘‘.

(17/134، باب أفضلیة ذبح الشاة في العقیقة، تحت حدیث :5514، بیروت)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144408100816
تاریخ06-03-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں