بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کاروبار کی جگہ پر ناخن کاٹنا کيسا ہے؟

سوال

کاروبار کی جگہ پر ناخن کاٹنا کيسا ہے؟

جواب

كاروبار کی جگہ میں ناخن کاٹنے میں شرعاً کوئی ممانعت نہیں ،کاروبار کی جگہ  میں ناخن کاٹنے کے متعلق  لوگوں میں جویہ مشہورہے کہ یہ منحوس ہے،اس بات کی شریعت میں کوئی اصل نہیں،نیز اسلام میں نیک فالی لینے کی تعلیم ہے اور کسی چیز کو بذاتِ خود منحوس سمجھنا یا اس سے بدفالی لینا، توشرعاً اس کی ممانعت ہے۔

في مرقاة المفاتيح لملاعلي قاري رح:

"أن الحكيم الترمذي، والبغوي، رويا عن بريدة: «أنه صلى الله عليه وسلم كان لايتطير، ولكن يتفاءل» . وتقدم أنه كان «يتفاءل ولا يتطير، وكان يحب الاسم الحسن»."

(كتاب الطب والرقى،باب الفأل والطيرة،ج:7،ص:2901،ط:دار الفكر،بيروت،لبنان)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144408100704
تاریخ05-03-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں