بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پانچویں یا ساتویں دن عقیقہ کا حکم

سوال

کیا بچے کاعقیقہ پانچویں  دن یاسات دن کے اندر کر سکتے ہیں؟

جواب

بچے کی پیدائش پر شکرانہ کے طور پر جو  جانور ذبح کیا جاتا ہے  اسے ’’عقیقہ‘‘ کہتے ہیں، عقیقہ کا مستحب وقت یہ ہے کہ پیدائش کے ساتویں دن عقیقہ کرے، اگر ساتویں دن عقیقہ نہ کرسکے تو چودھویں (14)  دن ، ورنہ اکیسویں (21) دن کرے،  اس کے بعد عقیقہ کرنا مباح ہے،اگر کرلے تو ادا ہوجاتا ہے،  تاہم جب بھی عقیقہ کرے بہتر یہ ہے کہ پیدائش کے دن  کے حساب سے ساتویں دن کرےاور اگر کوئی شخص پانچویں دن عقیقہ کرلے تو یہ جائز تو ہے، لیکن مستحب صورت کے خلاف ہوگا ۔

العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیہ میں ہے :

"(سئل) في العقيقة كيف حكمها وكيف تفعل؟

(الجواب) : قال في السراج الوهاج في كتاب الأضحية ما نصه مسألة العقيقة تطوع إن شاء فعلها، وإن شاء لم يفعل وهي أن يذبح شاة إذا أتى على الولد سبعة أيام وعند الشافعي ستة ثم إذا أراد أن يعق عن الولد، فإنه يذبح عن الغلام شاتين وعن الجارية شاة؛ لأنه إنما شرع للسرور بالمولود وهو بالغلام أكثر ولو ذبح عن الغلام شاة وعن الجارية شاة جاز؛ لأن «النبي - صلى الله عليه وسلم - عق عن الحسن والحسين كبشا كبشا» ولا يكون فيه دون الجذع من الضأن والثني من المعز ولا يكون فيه إلا السليمة من العيوب؛ لأنه إراقة دم شرعا كالأضحية ولو قدم ‌يوم ‌الذبح قبل يوم السابع أو أخره عنه جاز إلا أن يوم السابع أفضل".

(کتاب الذبائح ،ج:2،ص:212،دارالمعرفۃ)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144408100607
تاریخ04-03-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں