بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

غلطی سے سجدہ سہو کرلیا

سوال

فرض نماز کی تیسری رکعت میں غلطی سے سورت پڑھنے سے سجدہ سہو واجب نہیں ہوتا البتہ اگر کوئی لا علمی میں غلطی سے سجدہ سہو کر لے تو کیا اس کی نماز ہو گئی؟

جواب

اگر کسی نے مسئلہ سے لاعلمی کی وجہ سے گمان کیا کہ اس پر  سجدہ سہو لازم ہے،اور سجدہ سہو کرلیا،جبکہ اس پر در حقیقت سجدہ سہو لازم نہیں تھا،تو اس کی نماز ہوگئی،نماز کا اعادہ لازم نہیں ہے۔

الدر المختار وحاشیہ ابن عابدین میں ہے:

"ولو ظن الإمام السهو فسجد له فتابعه فبان أن لا سهو فالأشبه الفساد لاقتدائه في موضع الانفراد.

(قوله فالأشبه الفساد) وفي الفيض: وقيل لا تفسد وبه يفتي. وفي البحر عن الظهيرية قال الفقيه أبو الليث: في زماننا لا تفسد لأن الجهل في القراء غالب. اهـ. والله أعلم."

(باب الامامۃ،ج1،ص599،ط؛سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144408100519
تاریخ02-03-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں