بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

محض مارکیٹ میں قیمت بڑھنے کی صورت میں سامان کی قیمت بڑھاکر فروخت کرنے کا حکم

سوال

 اگر ایک چیز میں نے پانچ روپے کی خریدی ہو  اور چھ روپے  کی بیچتے ہیں ،آج کل پاکستان میں ریٹ دن بدن بڑھتے جارہے ہیں، یہی چیز اگر اگلے دن10  کی ہوجائےمارکیٹ میں، توآیا یہ چیز میں گیارہ روپے  کی بیچ سکتا ہوں ، جب کہ یہ مال میرے پاس پرانا سٹاک پڑا ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں  کم قیمت پر خریدی ہوئی چیز مارکیٹ میں قیمت بڑھنے کی صورت میں زیادہ قیمت پر فروخت کرنا  جائز ہے، البتہ عام مارکیٹ میں جو قیمت رائج ہے اس سے زیادہ قیمت پر بیچنا مکروہ ہے؛ اس لیے  مارکیٹ میں وہ چیز دس  کی ہوجائے تو دس کے اندر اندر فروخت کریں، اس سے زائد قیمت پر بیچنا مکروہ ہوگا۔ 

فتاویٰ شامی میں ہے:

"قوله: هو ما لا يدخل تحت تقويم المقومين) هو الصحيح كما في البحر، وذلك كما لو وقع البيع بعشرة مثلا، ثم إن بعض المقومين يقول إنه يساوي خمسة، وبعضهم ستة وبعضهم سبعة فهذا غبن فاحش؛ لأنه لم يدخل تحت تقويم أحد بخلاف ما إذا قال بعضهم: ثمانية وبعضهم تسعة وبعضهم: عشرة فهذا غبن يسير".

(کتاب البیع، باب الربا، ج:5، ص:143، ط:ایچ ایم سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144408100494
تاریخ02-03-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں