بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کاروبار میں متعین رقم بطورِ نفع طے کرنا

سوال

عدنان زید سے ایک لاکھ روپے کاروبار کے لیے لیتا ہے، عدنان زید کے ساتھ ایک لاکھ روپے پر تین فیصد منافع طے کرتا ہے، ایک مہینے کے لیے جو کہ تین ہزار روپے بنتے ہیں، عدنان تین فیصد اس لیےطے کرتا ہے؛ تاکہ اخراجات میں بھول چوک کی وجہ سے زید کو نقصان نہ ہو، کیا یہ تین فیصد طے کرنا ٹھیک ہے جو کہ مہینہ کے تین ہزار روپے بنتے ہیں؟  کیا یہ سود تو نہیں ہے ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں ایک لاکھ کے تین فی صد یعنی تین ہزار روپے کو نفع طے کرنا شرعا  درست نہیں،بلکہ سود ہے جو کہ حرام ہے، اس بچنا ضروری ہے اور آئندہ  اگر پارٹنرشپ کرنا چاہتے ہیں تو اگر عدنان کا اپنا سرمایہ ہو تو شراکت کا معاہدہ کیا جائے اور اگر  عدنان کا سرمایہ نہ ہو ،بلکہ صرف محنت ہو تو مضاربت  کا معاملہ کیا جا سکتا ہے،  لہذا   اس کی صورت واضح کر کے مسئلہ معلوم کیا جائے ۔

حاشیۃ ابن عابدین میں ہے :

ما في الزيلعي قبيل باب الصرف في بحث ما يبطل بالشرط الفاسد حيث قال: والأصل فيه أن كل ما كان مبادلة مال بمال يبطل بالشروط ‌الفاسدة ..........، لأن الشروط ‌الفاسدة من باب الربا،..........، لأن الربا هو الفضل الخالي عن العوض، وحقيقة الشروط ‌الفاسدة هي زيادة ما لا يقتضيه العقد ولا يلائمه فيكون فيه فضل خال عن العوض وهو الربا بعينه اهـ ملخصا

(کتاب البیوع، باب الربا، 5/ 169، ط: سعید)

بدائع الصنائع میں ہے :

(وأما) ‌حكم ‌المضاربة ‌الفاسدة، ........... ولا يستحق النفقة، ولا الربح المسمى، وإنما له أجر مثل عمله، سواء كان في ‌المضاربة ربح أو لم يكن؛ لأن ‌المضاربة ‌الفاسدة في معنى الإجارة ‌الفاسدة، ........، والربح كله يكون لرب المال؛ لأن الربح نماء ملكه

( کتاب المضاربة، فصل في بيان حكم المضاربة، 6/86، ط: دار الكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144408100439
تاریخ01-03-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں