بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نمازِجنازہ میں سورۃ فاتحہ دعاء کی نیت سے پڑھناجائز ہے

سوال

آپ کے دارالافتاء کے سابقہ فتوی میں  نماز جنازہ میں دعا کی نیت سے سورہ فاتحہ پڑھنے کو شرعاً جائز کہا گیا، مسئلہ یہ ہے کہ کیا عوام الناس بھی نمازِ جنازہ میں سورۂ فاتحہ دعاکی نیت سے پڑھ سکتے ہیں ؟

جواب

احناف کے ہاں نمازِ جنازمیں سورۂ فاتحہ کادعاءکی نیت سے پڑھنا جائز ہے، علماءاورعوام الناس   کا اس میں کوئی فرق نہیں ہے۔

فتح القدیرللکمال ابن الہمام میں ہے:

''(والصلاة أن يكبر تكبيرة يحمد الله عقيبها (قوله والصلاة أن يكبر تكبيرة يحمد الله عقيبها) عن أبي حنيفة يقول: سبحانك اللهم وبحمدك إلى آخره، قالوا لا يقرأ الفاتحة إلا أن يقرأها بنية الثناء، ولم تثبت القراءة عن رسول الله - صلى الله عليه وسلم .''

(کتاب الصلاۃ ،باب الجنائز،فصل فی الصلاۃ علی المیت،ج:2،ص:121/ 122،ط:شركة مكتبة ومطبعة مصفى البابي الحلبي)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144408100317
تاریخ28-02-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں