بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

وقف شدہ چیز کو فروخت کرنے کا حکم

سوال

(س ۔ا۔ق ) نے(2006)میں اپنامکان بغیرکسی دنیوی لالچ کےصرف رضائےالہی کی خاطرمعاشرےکےمتوسط طبقہ کےبچوں کوکم فیس پراچھی دینی ودنیاوی تعلیم فراہم کرنے کی غرض سے وقف کرنےکاارادہ کیا اور پھر بارہا اس کااعلان بھی کیا کہ میں نے یہ عمارت فی سبیل اللہ وقف کردی ہے ،اوراس عمارت کو اپنے ذاتی کام میں   لانے یا فروخت کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے،اس اعلان کو سننے والے بہت سے گواہان موجود ہیں اور(2006)ہی میں  '۔۔۔۔'کےنام سے اسکول بھی قائم ہوگیا،جس میں اس وقت سے اب تک پڑھائی چل رہی ہےاورلوگوں نے تعمیرکے لیے  اس میں چندہ بھی  دیاتھا۔اب( س۔ا۔ق) نے اسکول ختم کرکے  اس مکان کو فروخت کرنے کافیصہ کرلیاہےتوکیااب وہ اس مکان کے مالک ہیں؟اور کیا وہ اب اس مکان کو فروخت  کرنے،یااس کی فروخت سے حاصل ہونےوالی رقم کواپنے،یااپنے خاندان کے استعمال میں لاسکتےہیں؟اور (س۔ا۔ق)چندہ کی رقم کے '۔۔۔۔'  اسکول کی کمیٹی کوواپس دینےکے پابندہےیانہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ   میں جب مذکورہ شخص نے عمارت وقف کردی ہے اور اس کی تعمیر میں لوگوں سے چندہ بھی لیا ہے تو اس عمارت سے اس کی ملکیت ختم ہوگئی ہے، اب اس کے لیے یہ عمارت بیچنا  اور اسے اپنے یا کسی دوسرے کے ( وقف کے خلاف ذاتی ) استعمال میں لانا جائز نہیں۔

فتاوی شامی میں ہے :

 '' ثم إن أبا يوسف يقول يصير وقفا بمجرد القول لأنه بمنزلة الإعتاق عنده، وعليه الفتوى .''

(كتاب الوقف ، ج 4 ،ص 338 ،ط :سعید )

الدر مع الردمیں ہے:

'' (فاذا تم ولزم لا يملك ولا يملك ولا يعار ولا يرهن)

قوله: ' لا يملك  'أي لا يكون مملوكا لصاحبه ولا يملك أي لا يقبل التمليك لغيره بالبيع ونحوه .''

(الدر مع الرد  ،کتاب الوقف ،ج 4 ، ص 352، ط:سعید)

فتاوی شامی میں ہے:

'' لا يجوز الرجوع عن الوقف.'' 

(کتاب الوقف، ج 4، ص 459، ط:سعید)

تنویرالابصارمیں ہے:

'' یفتی بالضمان فی غصب عقارالوقف،وغصب منافعه.''

(رد المحتار، کتاب  الوقف ،ج4، ص 408، ط: سعید)

درالمختارمیں ہے:

'' فلایجوزله ابطاله ولایورث عنه ،وعلیه الفتوی .''

(رد المحتار، کتاب الوقف، ج4، ص 339، ط:سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144408100203
تاریخ26-02-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں