بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مہرکے بدلے میں کوئی اور چیز دینا

سوال

 اگر حد سے زیادہ مہر طے ہوجائے تواب مہر کی ادائیگی کی کیاصورت ہوگی؟ کیا بیوی کو کوئی چیز دے؟ مثلا کپڑا چپل جوتا ہدیہ وغیرہ کو مہر کی ادائیگی میں شمار کر سکتے ہیں کیا ؟ 

جواب

صورت مسئولہ میں جوبھی مہر طے ہوا ہے،  حسب معاہدہ اس کی ادائیگی ضروری ہے، نيز بیوی اگر مہر کے بدلے کوئی اور چیزلینے پر راضی ہو  تو ان چیزوں(  کپڑا ، جوتا ، ہدیہ وغیرہ)     کو مہر میں شمار کرنا درست ہے،وگرنہ نہیں۔

"وجملة الكلام فيه أن المهر في الأصل لا يخلو إما أن يكون معينا مشارا إليه، وإما أن يكون مسمى غير معين مشارا إليه، فإن كان معينا مشارا إليه صحت تسميته، سواء كان مما يتعين بالتعيين في عقود المعاوضات من العروض والعقار والحيوان وسائر المكيلات والموزونات سوى الدراهم والدنانير أو كان مما لا يتعين بالتعيين في عقود المعاوضات كالدراهم؛ لأنه مال لا جهالة فيه إلا أنه كان مما يتعين بالتعيين ليس للزوج أن يحبس العين ويدفع غيرها من غير رضا المرأة؛ لأن المشار إليه قد تعين للعقد فتعلق حقها بالعين فوجب عليه تسليم عينه، وإن كان مما لا يتعين له أن يحبسه ويدفع مثله جنسا ونوعا وقدرا وصفة؛ لأن التعيين إذا لم يصح صار مجازا عوضا من الجنس والنوع والقدر والصفة".

(بدائع الصنائع: كتاب النكاح، فصل ومنها أن لا يكون مجهولا جهالة تزيد على جهالة مهر المثل   (2/ 282)، ط.  دار الكتاب العربي، سنة النشر 1982، مكان النشر بيروت)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144408100167
تاریخ25-02-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں