بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مہر معجل کی ادائیگی کا حکم

سوال

اگر حق مہر میں طے شدہ رقم کچھ مؤجل ہو اور کچھ غیرمؤجل ہو، تو کیا غیر مؤجل طے شدہ رقم فی الحال دینا ضروری ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مہر میں سے جتنا حصہ غیرمؤجل (معجل) ہے، تو  نکاح کے فوری بعد شوہر کے ذمہ اس حصہ کا ادا  کرنا ضروری ہے، اوربیوی کو نکاح کے فوری بعد اس کی ادائیگی کےمطالبے  کا پورا حق ہے۔

فتاویٰ عالمگیری (الفتاوى الهندية ) میں ہے:

"وإن بينوا قدر المعجل يعجل ذلك".

(کتاب النکاح، الباب السابع فی المهر، الفصل الحادي عشر في منع المرأة نفسها بمهرها والتأجيل في المهر، ج:1، ص:318، ط:مکتبه رشیدیه)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144407102496
تاریخ21-02-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں