بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 جُمادى الأولى 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مکی آدمی کے لیے عمرہ اور حج کے احرام باندھنے کا حکم

سوال

میں مکہ  میں رہ رہا  ہوں  ، حرم شریف سے میرا گھر  دس  (10)  کلو میٹر   کےفاصلے پر ہے ،کیا میں  گھر سے احرم باندھ سکتا ہوں؟

جواب

حرم میں رہنے والو  ں  کےلیےعمرے کا احرام   باندھنے کے لیے حدود حرم سے باہر  جانا   ضروری ہے ،جب کہ حج کا احرام گھر سے با ندھ سکتاہے، لہذا   سائل کو عمرے کے  احرام   کے لیے حدود حرم  سے باہرجا کر احرام باندھنا ہوگا ،اور حج  کے لیے   اپنے گھر سے احرام  باندھ سکتا ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(و) المیقات (لمن بمکة) یعني من بداخل الحرم (للحج الحرم والعمرۃ الحل) لیتحقق نوع سفر."  

(رد المحتار، كتاب الحج، فصل فی الإحرام وصفة المفرد، ج:2 ص:478 ط: سعید)

فتاوی ہندیہ  میں ہے:

"و وقت المكي للإحرام بالحج الحرم، وللعمرة الحل كذا في الكافي، فيخرج الذي يريد العمرة إلى الحل من أي جانب شاء كذا في المحيط والتنعيم أفضل كذا في الهداية"             

(الفتاوی الھندیة، کتاب المناسك، الباب الثالث في الإحرام، ج:1 ص:221 ط : رشيدية)

النتف فی الفتاویٰ میں ہے:

"وأما الذي وطنه في الحرم فانه يحرم من وطنه في الحرم فإن خرج ثم أحرم فعليه دم وذلك إذا أحرم للحج وإن أحرم للعمرة فإنه يخرج من الحرم ويحرم لها فإن أحرم في الحرم فعليه دم وذلك لأن السنة جاءت بذلك."

(النتف فی الفتاوی، کتاب المناسك، الإحرام من أين هو؟، ص:133 ط: رشیدیة)

 فقط واللہ اعلم                 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144407102488
تاریخ21-02-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں