بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عقیقہ کے بدلے ضرورت مند کی ضرورت پوری کرنا

سوال

اللہ نے مجھے بیٹے سے نوازا ہے اور میرے پڑوس میں ایسے غریب لوگ رھتے ھیں جو آٹابھی خرید نہیں سکتے اگر میں اپنے بیٹے کے عقیقہ کی رقم سے ان کے لیے آٹااور دوسری ضروری اشیاء خریدوں تو  کیا عقیقہ ہو جائے گا؟

جواب

بچے کی پیدائش کے ساتویں   دن لڑکی کی طرف سے ایک بکرا ، بکری اور لڑکے کی طرف سے دو بکرے یا بکریاں  ذبح کرنا یا بڑے جانور میں لڑکے کے لیے دو حصے اور لڑکی کے لیے ایک حصہ اس نیت سے کرنا، عقیقہ کہلاتاہے، عقیقے کا حکم یہ ہے کہ یہ مسنون (مستحب) ہے،  عقیقہ کے جانور کے پیسے صدقہ کرنے   یا  ضرورت مندوں کی ضرورت کو پورا کرنے سے صدقے کا ثواب تو  ملے گا ،لیکن عقیقہ مسنون نہیں ہوگا، عقیقہ کے لیے جانور ذبح کرنا  ضروری ہے۔

فتاوی شامی میں ہے :

"والدليل على أنها الإراقة ‌لو ‌تصدق بين الحيوان لم يجز."

(کتاب الاضحیۃ، ج:3،ص:313،ط ،ایچ ایم سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144407102454
تاریخ21-02-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں