بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حق مہر میں لڑکے کی آمدنی کا اعتبار نہیں کیاجاتاہے

سوال

اگر لڑکے کی تنخواہ 20ہزار روپے سے 25ہزار روپے کی تو مہر کتنا ہونا چاہیے؟

جواب

 مہر کی کم سے کم مقدار۱۰  درہم کے بقدر چاندی یا اس کی قیمت ہے ۔  اور۱۰  درہم کا وزن۲  تولہ ساڑھے سات ماشہ ہے، اور موجودہ وزن کے مطابق  اُس کی مقدار ۳۰  گرام۶۱۸  ملی گرام ہوتی ہے۔ اور مہر کی زیادہ سے زیادہ مقدار کی شریعت میں کوئی حد مقرر نہیں ہے، جس پر دونوں گھرانے راضی ہوجائیں وہ طے کرسکتے ہیں۔ تاہم مہر میں بہت زیادہ مبالغہ (جو حیثیت سے بڑھ کر ہو) یا دکھلاوا شرعاً پسندیدہ نہیں ہے۔

اس  لیے باہمی رضامندی سے  کوئی  درمیانی راہ اختیار کرنی  چاہیے، نہ اتنی معمولی مقدار  ہو کہ اس کی کوئی قدرہی نہ رہے، اور نہ اتنی زیادہ ہو کہ اس کی ادائیگی دشوار ہوجائے،بہتر  یہ ہے کہ مہر مثل ہو اورمہر مثل کامطلب یہ ہے کہ  لڑکی کے باپ کے خاندان میں اس جیسی  لڑکی  کا جتنا مہر  ہو،اس لڑکی کابھی اتنا ہی مہر مقررکیاجائے۔

الدرالمختار مع الردالمحتار ميں ہے:

"(أقله عشرة دراهم) لحديث البيهقي وغيره «لا مهر أقل من عشرة دراهم» ورواية الأقل تحمل على المعجل (فضة وزن سبعة) مثاقيل كما في الزكاة."

(كتاب النكاح،باب المهر،ج:3،ص:101،ط:سعيد)

وفیہ ایضاً:

"(وكذا يجب) مهر المثل (فيما إذا لم يسم) مهرا (أو نفى إن وطئ) الزوج (أو مات عنها إذا لم يتراضيا على شيء) يصلح مهرا (وإلا فذلك) الشيء (هو الواجب.

(قوله: و إذا لم يتراضيا) أي بعد العقد (قوله: و إلا) بأن تراضيا على شيء فهو الواجب بالوطء أو الموت أما لو طلقها قبل الدخول فتجب المتعة كما يأتي في قوله: و ما فرض بعد العقد أو زيد لايتنصف."

(کتاب النکاح،باب المہر،ج3،ص109،ط:سعید)

فقط  و اللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144407102437
تاریخ21-02-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں